قاتلوں کو سزا مل گئی ماسٹر مائنڈز کو سزا ملنا باقی ہے، اہلیہ ارشد شریف

0
228

شہید صحافی ارشد شریف شہید کی اہلیہ جویریہ صدیق نے کہا ہے کہ مجھے کینیا کی عدلیہ پر بہت زیادہ اعتماد ہوا ہے، میں ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ دوسری طرف مجھے مایوسی بھی ہوئی ہے کہ ایک سال ہوگیا ہے ہمارے ملک میں بڑے بڑے اداروں میں بیٹھے اور بڑی بڑی باتیں کرنے والے کچھ بھی نہیں کر رہے، ابھی تک ہمارے کیس کی شنوائی نہیں ہوئی۔

جویریہ صدیق نے کہا کہ ان ملزمان کو کب سزا ملے گی جو پاکستان میں ارشد شریف پر 16 مقدمات درج کروانے میں ملوث تھے اور جنہوں نے ارشد کو دھمکی دی تھی کہ ہم تمہیں سر میں گولی ماریں گے۔ یہ وہی ماسٹر مائنڈ تھے جنہوں نے کینیا کی پولیس کو کرائے کے قاتل کے طور پر استعمال کیا تھا۔ آج کچھ مجرموں کو سزا ہوئی ہے جبکہ باقی مجرموں کو سزا دینے کی بھاری ذمہ داری پاکستانی عدلیہ کے کندھوں پر ہے۔
جویریہ صدیق کا کہنا تھا کہ میں طویل عرصے سے ارشد شریف کے لیے انصاف کی جدوجہد کررہی ہوں، انصاف کی یہ جنگ اکیلے میرے کندھوں پر آ گئی جسے مجھے لڑنا پڑا۔ مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ کینیا کی ہائیکورٹ کی جج جسٹس سٹیلا موٹوکو نے کسی قسم کا کوئی دباؤ قبول نہیں کیا اور اپنے ہی ملک کے اداروں کے خلاف آئین اور انسانی حقوق کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ دیا۔

انہوں نے کہا ہےکہ پولیس والوں کو سزا دی جائے اور فیملی کو ہرجانہ بھی ادا کیا جائے، جو ہماری استدعا نہیں تھی۔ حالانکہ ہماری استدعا صرف یہ تھی کہ ملزمان کو سزا دی جائے اور تحقیقات کو ہمارے ساتھ شیئر کیا جائے۔

واضح رہے کہ کینیا کی اعلیٰ عدالت نے صحافی ارشد شریف قتل کیس کے معاملے میں ان کی اہلیہ جویریہ ارشد کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کینیا حکومت کو واقعے کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔

کینیا ہائیکورٹ کی جج جسٹس سٹیلا موٹوکو نے ارشد شریف پر کینیا کی پولیس کے اہلکاروں کی فائرنگ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور غیر قانونی قرار دیت ہوئے کہا کہ ہر شخص آئین اور قانون کے سامنے برابر ہے اور اسے زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا