بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ افواج پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف قربانیاں دیں مگر جب خیبرپختونخوا حکومت کے عہدیدار دہشتگردوں کی سہولت کاری کریں گے تو پھر کیسے ان کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعظم پاکستان نے ملک میں دہشتگردی کی لہر پر اے پی سی بلانے کا اچھا فیصلہ کیا ہے
انہوں نے کہاکہ اگر خیبرپختونخوا حکومت اپنے بجٹ سے دہشتگرد تنظیموں کو فنڈنگ دے گی تو پھر دہشتگردوں کا مقابلہ کیسے ہوگا۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ اس وقت ملک بھر میں نفرت کی سیاست ہورہی ہے، سیاستدانوں کو سنجیدگی سے مسائل کا حل نکالنا ہوگا، ورنہ یاد رکھیں کہ عوام کا سامنا کرنا پڑے گا۔
چیئرمین پی پی پی نے کہاکہ وزیراعظم اور ان کی ٹیم نے ہمارے کچھ مسائل حل کیے ہیں اور ہمیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ پی ایس ڈی پی پر مشاورت کی جائے گی، بہتر ہوتا کہ بجٹ سے مشاورت کی جاتی۔
انہوں نے کہاکہ افغانستان اور پاکستان کو مل جل کر اپنے مسائل حل کر لینے چاہییں، صرف کابل جانے سے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔
انہوں نے کہاکہ میں اگر وزیر خارجہ رہتا تو ضرور کابل کا دورہ کرتا، لیکن مسائل کا حل ہمیشہ سفارتی سطح پر بات چیت سے ہی نکلتا ہے۔
بلاول بھٹو نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا نام لیے بغیر کہاکہ آپ کو یاد ہوگا کہ کابل جاکر ایک چائے کا کپ بھی پیا گیا تھا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ماضی میں ہم سے غلطیاں ضرور ہوئیں، لیکن دیکھنا یہ کہ آگے کیا کرنا ہے، جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے پیپلزپارٹی کے مطالبے پر ہی پارلیمنٹ میں آکر بریفنگ دی تھی۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اگر میں وزیراعظم بنتا تو 300 یونٹ تک بجلی ضرور فری ملتی۔
انہوں نے مزید کہاکہ یہ حکومت پیپلزپارٹی کے ووٹوں کی وجہ سے کھڑی ہے، ہمیں وزارتیں نہیں چاہیے، چاہتے ہیں کہ عوام کے مسائل حل ہوں۔






