قبائلی علاقوں میں مسلح گروہوں کا راج،سرکاری فنڈز کا 10 فیصد بھتہ میں چلا جاتا ہے: مولانا فضل الرحمان

0
317

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں مسلح گروہوں کا راج قائم ہے اور سرکاری فنڈز کا 10 فیصد انہی گروہوں کے پاس چلا جاتا ہے، جس کی وجہ سے تاجر آزادانہ کاروبار نہیں کر سکتے اور ہر کسی کو بھتہ دینا پڑتا ہے۔

اسلام آباد میں آل پارٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی رٹ کے حوالے سے یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، معاملات حل کرنے کے بجائے طاقت ور ادارے اپنی اتھارٹی قائم کرنے کے چکر میں ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کے پی اور بلوچستان کے معدنی ذخائر عوام کی ملکیت ہیں، اگر ملٹی نیشنل کمپنیاں سرمایہ کاری کریں تو نوکریاں اور وسائل مقامی لوگوں کا حق ہیں، لیکن اس کے برعکس طاقت ور ادارے اپنا کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ فاٹا انضمام کو کئی سال ہوچکے مگر اب دوبارہ جرگہ سسٹم بحال کرنے کی بات کی جارہی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قبائل کو دکھائے گئے سبز باغ حقیقت سے بہت دور تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں اور عوام کو بیدار رہنا ہوگا، پارلیمانی نظام اور عوام کے ووٹ کا تحفظ ضروری ہے۔ نیشنل ایکشن پلان محض ایک اعلامیہ ہے، جبکہ ملک کو ایک مضبوط نیشنل اکنامک پلان کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو اپنے وسائل پر حق ملے۔

مولانا فضل الرحمان نے افغان مہاجرین کی جبری بے دخلی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ بہت سے افغان کئی سالوں سے یہاں سرمایہ کاری کر رہے ہیں جبکہ کچھ طلبا یہاں سے انجینئر اور ڈاکٹر بنے ہیں، لہٰذا ان کے لیے کیٹیگریز طے کی جائیں اور طلبا کو اپنی تعلیم مکمل کرنے دی جائے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا