جدہ: اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کا غیرمعمولی اجلاس جدہ میں شروع ہو گیا ہے، جس میں غزہ میں فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی رسائی پر زور دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کر رہے ہیں۔
سعودی وزیر خارجہ نے اجلاس میں کہا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی، امداد کی بلاروک ٹوک فراہمی اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے گریٹر اسرائیل منصوبے اور مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے قیام کو مسترد کیا۔
ترک وزیر خارجہ نے غزہ میں اسرائیلی قبضے اور جاری حملوں کو ناقابل قبول قرار دیا اور فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے دو ریاستی حل کی اہمیت اور غزہ میں جبری قحط کو انسانی جرم قرار دیا۔
دفتر خارجہ پاکستان کے مطابق اجلاس میں اسحاق ڈار فلسطینی عوام کے جائز حقوق، جون 1967 کی سرحدوں پر مبنی آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام اور القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے کے مطالبے کا اعادہ کریں گے۔ وہ اسرائیل سے تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے مکمل انخلا کا بھی مطالبہ کریں گے۔
اجلاس کے دوران رکن ممالک کے وزراء خارجہ اور سینئر حکام فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی فوجی جارحیت اور غزہ پر مکمل فوجی کنٹرول کے مجوزہ منصوبے پر مربوط ردعمل پر غور کریں گے۔ اجلاس میں اسحاق ڈار کی اہم رکن ممالک کے ہم منصبوں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔






