امریکا کی جانب سے 29 اگست سے چھوٹے پارسلز پر ٹیکس چھوٹ ختم کیے جانے کے بعد دنیا کے مختلف ممالک نے امریکا کے لیے ڈاک اور پارسل کی ترسیل بند کر دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق 88 ڈاک آپریٹرز نے خدمات کو مکمل یا جزوی طور پر معطل کیا، جس کے نتیجے میں امریکا جانے والی ڈاک میں 80 فیصد سے زائد کمی دیکھنے میں آئی۔ معطل کرنے والوں میں جرمنی کا ڈوئچے پوسٹ، برطانیہ کا رائل میل، بوسنیا و ہرزیگووینا کے 2 آپریٹرز اور پاکستان شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کی یونیورسل پوسٹل یونین (UPU) کے ڈائریکٹر جنرل ماساہیکو میتوکی نے بتایا کہ ادارہ ایک نئے تکنیکی حل پر کام کر رہا ہے تاکہ امریکا کے لیے ڈاک کی ترسیل دوبارہ بحال کی جا سکے۔






