اسلام آباد ہائیکورٹ میں وکلاء احتجاج کے دوران بار صدر واجد گیلانی اور وکیل انتظار حسین پنجوتھہ کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کے واقعے نے سنگین رخ اختیار کر لیا۔ صدر ہائیکورٹ بار واجد گیلانی کی درخواست پر پولیس نے 60 سے زائد وکلاء کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں انسدادِ دہشتگردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
واقعے کے بعد واجد گیلانی نے اعلان کیا تھا کہ حملہ آور وکلاء کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ان کے لائسنس منسوخی کے لیے بار کونسل سے رجوع کیا جائے گا۔ سیکریٹری بار منظور ججہ نے بھی کہا تھا کہ وکلاء کے خلاف دہشتگردی کے مقدمات درج کروانے کی درخواست دی جائے گی تاکہ کسی کو بار کی قیادت پر حملے کی جرات نہ ہو۔
ادھر اسلام آباد بار کونسل کے وائس چیئرمین نصیر کیانی نے کہا ہے کہ واقعے میں ملوث وکلاء کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی اور ان کے لائسنس فوری طور پر معطل کرنے کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی آر درج ہونے کے بعد وکلاء برادری میں شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے اور ممکنہ احتجاجی ردعمل کے خدشے کے باعث ہائیکورٹ اور اس کے اطراف میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔






