وزیراعظم شہباز شریف سمیت 8 مسلم رہنماؤں کی صدر ٹرمپ سے ملاقات

0
173

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، ترکیہ، قطر، سعودی عرب، انڈونیشیا، مصر اور متحدہ عرب امارات کے سربراہان شریک ہوئے۔ اجلاس میں غزہ میں جاری جنگ کے بعد امن، گورننس اور سیکیورٹی کی صورتحال پر غور کیا گیا۔

اجلاس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی، اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوئم اور انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں رہنماؤں کے درمیان گرمجوشی سے مصافحہ اور غیر رسمی تبادلہ خیال ہوا۔

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے عرب اور مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ غزہ میں قیامِ امن کے لیے عملی اقدامات کریں۔ امریکا چاہتا ہے کہ مسلم ممالک نہ صرف غزہ میں اپنی افواج تعینات کریں تاکہ اسرائیلی انخلا ممکن ہو، بلکہ تعمیرِ نو اور اقتدار کی منتقلی کے عمل میں مالی معاونت بھی فراہم کریں۔

صدر ٹرمپ نے اس سے قبل اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا حماس کے مظالم کو انعام دینے کے مترادف ہوگا۔ ان کے مطابق بعض ممالک فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ اقدام امن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا غزہ میں فوری جنگ بندی اور یرغمالیوں کی بازیابی چاہتا ہے، جن میں سے 38 کی لاشیں حماس کے قبضے میں ہیں۔ ان کا الزام تھا کہ حماس نے حالیہ دنوں میں امن معاہدے کی پیشکش کو مسترد کیا۔

اجلاس میں شریک مسلم ممالک کے رہنماؤں نے بھی اپنے مؤقف اور تجاویز پیش کیں، تاہم کسی مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا