اسلام آباد میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ممکن ہے قطر حملے نے پاک سعودی دفاعی معاہدے کے مذاکرات کے عمل کو تیز کیا ہو۔
انہوں نے امریکی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات طویل ہیں، اور سعودی عرب کے ساتھ موجودہ معاہدے کو قطر حملے کا ردعمل نہیں کہا جا سکتا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ دفاعی معاہدے پر بات چیت ایک عرصے سے جاری تھی، اور ہوسکتا ہے کہ قطر حملے نے مذاکرات کو تیز کرنے میں کردار ادا کیا ہو۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پاکستان کی افواج ابھی بھی سعودی عرب میں موجود ہیں، اور موجودہ معاہدہ دفاعی تعلقات کو باقاعدہ شکل دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیروشیما اور ناگاساکی کے بعد کوئی بھی ایٹمی طاقت ہتھیار استعمال کرنے کے حق میں نہیں۔
خواجہ آصف نے جمہوریت کی حالت پر بھی بات کی اور کہا کہ ہماری جمہوریت بہترین نہیں لیکن بہتری کے راستے پر گامزن ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی حالیہ سعودی عرب دورے میں محمد بن سلمان کے ساتھ سٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت کسی بھی ملک پر حملہ دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا اور معاہدہ دونوں ملکوں کی سلامتی اور امن کے حصول کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔






