نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے حماس، حزب اللہ، ایران اور یمن کے حوثیوں کو کھلی دھمکیاں دیں۔
نیتن یاہو نے اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا مرتکب نہیں، بلکہ اپنے حملوں کا دفاع کر رہا ہے۔
انہوں نے حماس، حزب اللہ اور حوثیوں پر حملے اور مخالفین کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ان نام نہاد رہنماؤں کو اسرائیل میں دہشت گردی کی سزا دی جا رہی ہے۔
نیتن یاہو نے دھمکی دی کہ حماس ہتھیار ڈال دے، تمام یرغمالی رہا کروائے جائیں گے تو زندہ رہیں گے، ورنہ مار دیے جائیں گے۔
انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام اور فوجی کمانڈروں کو نشانہ بنانے کا بھی اعتراف کیا اور صدر ٹرمپ کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ حزب اللہ کے سربراہ نصر اللہ اور عراق و شام میں مخالف ملیشیاؤں کے ہتھیار تباہ کیے گئے اور حوثیوں کی جنگی صلاحیتیں کم کی گئی ہیں۔
انہوں نے یورپی ممالک کی تنقید پر کہا کہ جو ممالک عوامی سطح پر اسرائیل کی مذمت کرتے ہیں، وہ نجی ملاقاتوں میں اسرائیل کے شکر گزار ہیں۔






