نیویارک میں وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے پاک بھارت محاذ پر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اور اب خطے میں امن چاہتا ہے۔
انہوں نے خطاب کا آغاز قرآن مجید کی تلاوت سے کیا اور جنرل اسمبلی کی صدر کو 80ویں اجلاس کی صدارت پر مبارکباد دی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی، دہشت گردی، اور جعلی خبروں نے دنیا میں اعتماد کو متزلزل کیا ہے، اور پاکستان کی خارجہ پالیسی پرامن بقائے باہمی اور مکالمے پر مبنی ہے۔
شہباز شریف نے مئی میں بھارتی جارحیت کے دوران پاکستان کی مسلح افواج کی بہادری کو سراہا اور کہا کہ آرٹیکل 51 کے تحت دفاع کا حق استعمال کیا گیا، جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ائیرچیف مارشل ظہیر احمد بابرسدھو کی قیادت قابل ذکر رہی۔
وزیر اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امن کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ پاکستان نے انہیں امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ایک دن وہ اپنا حق خودارادیت حاصل کریں گے جبکہ بھارت کا قبضہ ختم ہوگا۔
انہوں نے فلسطینی عوام کی حمایت کی اور غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی کہا کہ پاکستان آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے حق میں ہے جو 1967 کی سرحدوں پر قائم ہو اور دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
وزیر اعظم نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان دنیا کو دہشت گردی سے بچانے میں ایک مضبوط دیوار کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بطور سکیورٹی کونسل کے غیر مستقل رکن تنازعات کو روکنے اور عالمی امن و انصاف کو فروغ دینے کا کردار جاری رکھے گا۔






