سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کا نام غزہ میں جنگ کے بعد عبوری انتظامیہ کی قیادت کے لیے سامنے آیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق اس منصوبے کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے بھی حمایت کی جا رہی ہے۔
منصوبے کے تحت ٹونی بلیئر اقوام متحدہ اور خلیجی ممالک کی معاونت سے ایک گورننگ اتھارٹی کی سربراہی کریں گے، جو بعد میں اختیار فلسطینیوں کو واپس سونپ دے گی۔
بلیئر کے دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی منصوبے کی حمایت نہیں کریں گے جس کے نتیجے میں غزہ کے عوام کو بے دخل کیا جائے۔
اس منصوبے کو ’غزہ انٹرنیشنل ٹرانزیشنل اتھارٹی‘ (گیٹا) کے نام سے قائم کیا جا سکتا ہے، جو پانچ سال کے لیے غزہ کی سب سے بڑی سیاسی و قانونی اتھارٹی کے طور پر اقوام متحدہ سے مینڈیٹ حاصل کرے گی۔
ابتدائی طور پر یہ اتھارٹی مصر میں غزہ کی جنوبی سرحد کے قریب قائم ہوگی اور حالات مستحکم ہونے پر ایک کثیر القومی فورس کے ہمراہ غزہ میں داخل ہوگی۔






