ٹوکیو: جاپان میں ایک سیاسی جماعت نے عام انتخابات میں بدترین ناکامی کے بعد حیران کن قدم اٹھاتے ہوئے پارٹی کی قیادت مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو دینے کا اعلان کردیا۔
جاپانی میڈیا کے مطابق “پیتھ ٹو ری برتھ پارٹی” حالیہ انتخابات میں ایک بھی نشست حاصل نہ کر سکی، جس کے بعد بانی رہنما شنجی ایشیمارو مستعفی ہوگئے۔ ان کے جانے کے بعد پارٹی نے فیصلہ کیا کہ اب قیادت انسانی رہنما کے بجائے ایک AI ماڈل کے پاس ہوگی۔
پارٹی کے نئے نمائندے اور کیوٹو یونیورسٹی کے 25 سالہ طالب علم کوکی اوکومورا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ نیا لیڈر “AI” ہوگا، جو پارٹی ممبران کی سرگرمیوں کو کنٹرول نہیں کرے گا بلکہ وسائل کی تقسیم اور انتخابی پالیسیوں میں رہنمائی فراہم کرے گا۔
اوکومورا کا کہنا ہے کہ ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ AI کو باضابطہ طور پر کب اور کس طریقے سے قیادت سونپی جائے گی، تاہم ماڈل کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔
واضح رہے کہ شنجی ایشیمارو، جو ایک چھوٹے شہر کے سابق میئر ہیں، 2024 کے ٹوکیو گورنر الیکشن میں غیر متوقع طور پر دوسرے نمبر پر آئے تھے۔ ان کی مقبولیت دیکھتے ہوئے پارٹی بنائی گئی لیکن واضح منشور نہ ہونے کے باعث انتخابات میں پارٹی کے تمام امیدوار بری طرح ہار گئے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ جاپان کی کسی جماعت نے پارٹی سربراہی براہ راست مصنوعی ذہانت کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔






