لداخ ، مودی سرکار کی ریاستی دہشتگردی؛ مزید 4 ہلاکتیں، احتجاجی رہنما بھی گرفتار

0
114

مقبوضہ کشمیر کے علاقے لداخ میں علیحدہ ریاستی حیثیت اور خصوصی حقوق کے لیے جاری احتجاجی تحریک پر بھارتی انتظامیہ کی فائرنگ میں مزید 4 مظاہرین ہلاک ہو گئے، جس کے بعد ہلاک شدگان کی تعداد 20 سے تجاوز کر گئی ہے۔ مظاہروں کی قیادت کرنے والے ماحولیاتی رہنما سونم وانگچک کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

مودی سرکار کی ہدایت پر کٹھ پتلی انتظامیہ نے مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ کی، جبکہ سونم وانگچک کی تنظیم اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنٹ آف لداخ کا لائسنس بھی منسوخ کر دیا گیا۔ مقامی رہنما بھوک ہڑتال پر بیٹھ کر اپنے مطالبات کی منظوری کا مطالبہ کر رہے ہیں اور عوام کی بڑی تعداد احتجاج میں شریک ہے۔

2019 میں لداخ کو جموں و کشمیر سے الگ کر کے وفاق کے زیر انتظام بنایا گیا تھا اور آرٹیکل 370 و 35A ختم کر دیے گئے تھے۔ مقامی عوام ریاستی درجہ، ملازمتوں میں کوٹہ اور قبائلی علاقوں کے تحفظ کے لیے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں، تاہم ان کی سنوائی نہیں ہو رہی۔

مودی حکومت کا کہنا ہے کہ لداخ کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ 2023 سے جاری ہے اور اگلا دور 6 اکتوبر کو متوقع ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا