سلامتی کونسل نے ایران پر جوہری پابندیوں میں نرمی کی قرارداد مسترد کر دی، پاکستان کا اظہار افسوس

0
147

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر جوہری پابندیوں میں نرمی سے متعلق چین اور روس کی پیش کردہ قرارداد مسترد کر دی، جس پر پاکستان نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

15 رکنی اجلاس میں قرارداد کے حق میں صرف چار ممالک—الجزائر، چین، پاکستان اور روس—نے ووٹ دیا، جبکہ نو ممالک نے مخالفت کی اور دو نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ قرارداد مسترد ہونے کے بعد ایران پر ختم کی گئی پابندیاں دوبارہ نافذ ہو جائیں گی۔

یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایران کی خلاف ورزیوں پر “سنیپ بیک میکنزم” فعال کیا تھا۔ پاکستان کے مندوب عمر صدیق نے وضاحت کی کہ مزید وقت دینا آگے بڑھنے کے لیے ضروری تھا، اور قرارداد 2231 میں تکنیکی توسیع منطقی قدم ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندیاں مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ کر دیتی ہیں اور نقصان عام ایرانی عوام کو ہوتا ہے، اس لیے مسائل کو سفارت کاری اور تعاون کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

چین کے نائب نمائندے گینگ شوانگ نے بھی قرارداد مسترد ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ تعطل خطے میں نئے سکیورٹی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ امریکا کی نائب نمائندہ ڈوروتھی شیا نے قرارداد کی مخالفت کو سراہا اور روس و چین کی کوشش کو ایران کو جواب دہی سے بچانے کی ناکام کوشش قرار دیا۔ روس کے نائب نمائندے دمتری پولیانسکی نے مخالفت کرنے والے ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے سفارتی دعوے محض دکھاوا ثابت ہوئے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا