بیجنگ: چین کے شہر چونگ کِنگ میں ایک انوکھا مقدمہ سامنے آیا جہاں باس نے اپنے ہی کم عمر ملازم سے محبت اور شادی کرنے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے مگر علیحدگی کے بعد عدالت نے رقم واپس کرنے سے انکار کر دیا۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق کمپنی چلانے والی خاتون “ژو” اپنے ملازم “ہی” کے عشق میں مبتلا ہوگئیں۔ دونوں پہلے سے شادی شدہ تھے، لیکن قریب آنے کے بعد زندگی ساتھ گزارنے کا فیصلہ کیا۔ ژو نے ہی کی طلاق کے لیے 30 ملین یوآن (تقریباً 11 ارب روپے) ادا کیے تاکہ اس کی پہلی بیوی “چین” اور بچے کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔
تاہم شادی زیادہ عرصہ نہ چل سکی اور دونوں کے درمیان علیحدگی ہوگئی۔ ژو نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے خرچ کی گئی خطیر رقم واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ابتدائی طور پر عدالت نے ژو کے حق میں فیصلہ دیا اور رقم واپس کرنے کا حکم سنایا، اسے “غیر قانونی تحفہ” قرار دیا۔
لیکن ہی اور اس کی سابقہ بیوی چین کی اپیل پر اپیلیٹ کورٹ نے فیصلہ پلٹ دیا۔ عدالت نے کہا کہ ژو یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ رقم تحفہ یا قرض تھی، یہ رقم دراصل طلاق کے تصفیے اور بچے کی پرورش کے لیے دی گئی تھی، لہٰذا واپس نہیں ہو سکتی۔
یوں اپیلیٹ کورٹ نے ابتدائی فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور ژو کو کروڑوں کا بڑا مالی جھٹکا لگا جبکہ ہی کو ریلیف مل گیا۔






