امریکا ڈنڈے والی سیاست نہ کرے،مولانا فضل الرحمان

0
174

جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ امریکا انتہا پسندی اور ڈنڈے والی سیاست نہ کرے، حماس اصل فریق ہے اور اسے نظر انداز کر کے مسئلہ فلسطین کبھی حل نہیں ہوسکتا۔

میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین آج پوری دنیا کا سب سے بڑا سوال ہے، بانی پاکستان نے اسرائیل کے وجود کو عرب دنیا کی پیٹھ میں خنجر قرار دیا تھا۔ اسرائیل ناجائز ریاست ہے جسے کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے مسائل پر زبردستی اپنا فیصلہ مسلط کر رہے ہیں، یہ رویہ نہ اخلاقی ہے اور نہ سیاسی۔ فلسطینیوں کی مرضی کے خلاف کوئی حل تھونپا نہیں جا سکتا، دو ریاستی حل اسی وقت ممکن ہے جب آزاد فلسطین قائم ہو اور اس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔

انہوں نے کہا کہ لاکھوں فلسطینی بھوک، بیماری اور ادویات کی کمی کے باعث شہید ہو چکے ہیں لیکن عالمی برادری اسرائیل کے مظالم پر خاموش ہے۔ اگر صدام حسین کو چند واقعات پر پھانسی دی جا سکتی ہے تو اسرائیل کے جرائم پر کیوں نہیں؟

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ بوسنیا کے لاکھوں مسلمان شہید اور بے گھر کیے گئے، آج ٹرمپ اور نیتن یاہو کا بیانیہ اسرائیل کی توسیع کا منصوبہ ہے، فلسطین کی آبادکاری کا نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں کوئی بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کا نہ سوچے۔ سیاسی جماعتوں اور حکمرانوں کو مسئلہ فلسطین کو وہ مقام دینا ہوگا جو اسے ملنا چاہیے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا