پیپلز پارٹی کی حکمران اتحاد سے علیحدگی کی دھمکی، اسمبلی سے واک آؤٹ

0
138

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی پانی اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام مخالف تقریروں کے بعد پیپلز پارٹی نے حکمران اتحاد سے الگ ہونے کی دھمکی دے دی اور قومی اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے نکتہ اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ “ہمارا پانی، ہماری نہر، ہماری مرضی” جیسے بیانات افسوسناک ہیں۔ پانی دریائے سندھ کا ہے اور یہ پاکستان کا ہے، ایسی گفتگو اتحادی ماحول کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کسی فیس پر حکومتی بینچوں پر نہیں بیٹھے، اپوزیشن بینچوں پر بھی جا سکتے ہیں۔ ان کے بیان کے فوراً بعد پیپلز پارٹی کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ پنجاب کے بیانات سے کسی کو دکھ پہنچا ہے تو ہم معذرت خواہ ہیں، تمام بڑے رہنما بیٹھ کر مسائل حل کر سکتے ہیں۔

اسی دوران پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد ارکان نے بھی احتجاج شروع کر دیا اور اسپیکر ڈائس کی طرف بڑھنے لگے، جس پر اجلاس جمعہ صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

بعدازاں محمود خان اچکزئی کی قیادت میں پی ٹی آئی ارکان نے اسپیکر ڈائس کے سامنے اپنی عوامی اسمبلی لگائی، جس میں سابق اسپیکر اسد قیصر نے اسپیکر کے فرائض سرانجام دیے۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے قراردادیں پیش کیں، جن میں اسرائیل کو کسی بھی صورت تسلیم کرنے کی مخالفت، شمع جونیجو کی خفیہ دستاویزات تک رسائی کا مطالبہ اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی و بشریٰ بی بی کی ممکنہ منتقلی کی مخالفت شامل تھیں۔

عوامی اسمبلی کے دوران پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر بھی پہنچے، جہاں پی ٹی آئی ارکان نے ان کا استقبال کیا، تاہم وہ کچھ دیر بعد اسپیکر آفس چلے گئے۔ عوامی اسمبلی کا اجلاس بھی جمعہ دن 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا