اسلام آباد: وزیراعظم آزاد کشمیر نے عوامی ایکشن کمیٹی کو پرامن مذاکرات کی دعوت دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے پہلے پُرامن احتجاج کا اعلان کیا تھا، لیکن مختلف علاقوں میں مشتعل افراد نے پولیس پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں تین اہلکار شہید اور دس زخمی ہوئے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ احتجاج میں مختلف علاقوں سے لوگ شامل تھے، اور اگر صرف مقامی کشمیری شامل ہوتے تو شاید صورتحال اتنی تشویشناک نہ ہوتی۔ انہوں نے ایک بار پھر عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کو مذاکرات کی پیشکش کی اور کہا کہ حکومت مظاہرین کے جائز مطالبات کو حل کرنے کے لیے تیار ہے۔
وزیراعظم نے یاد دہانی کرائی کہ ستمبر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے 90 فیصد مطالبات پہلے ہی تسلیم کیے جا چکے تھے، لیکن اس کے باوجود احتجاج کا اعلان کیا گیا۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے اب پرامن احتجاج کے بجائے تشدد کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت کے تحت میری ذمہ داری ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں سے مذاکرات کیے جائیں اور ان کے جائز مطالبات کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔






