حماس نے جنگ بندی منصوبہ مسترد کردیا، بی بی سی کا بڑا انکشاف

0
158

غزہ: حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ نے امریکا کے مجوزہ جنگ بندی منصوبے کو مسترد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ حماس رہنما عزالدین الحداد کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ دراصل حماس کو ختم کرنے کی کوشش ہے، اس لیے وہ لڑائی جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی فریم ورک کو اسرائیل پہلے ہی قبول کر چکا ہے، تاہم اس میں حماس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی حکومت میں اس کا کوئی کردار نہ ہو۔ قطر میں موجود حماس کی کچھ سیاسی قیادت ترامیم کے ساتھ منصوبے کو قبول کرنے پر آمادہ ہیں، لیکن ان کا اثر و رسوخ محدود ہے کیونکہ یرغمالیوں پر ان کا کنٹرول نہیں ہے۔

رپورٹس کے مطابق حماس کے قبضے میں 48 یرغمالی موجود ہیں جن میں سے صرف 20 کے زندہ ہونے کا امکان ہے۔ منصوبے میں پہلے 72 گھنٹوں کے اندر تمام یرغمالیوں کی رہائی کی شرط بھی ایک بڑی رکاوٹ سمجھی جا رہی ہے۔ حماس کو خدشہ ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کے بعد اسرائیل دوبارہ حملے شروع کر سکتا ہے، خاص طور پر اس واقعے کے بعد جب امریکا کی مخالفت کے باوجود دوحہ میں حماس قیادت کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

منصوبے میں غزہ کی سرحدوں پر ’سیکیورٹی بفر زون‘ بنانے اور ایک عارضی بین الاقوامی فورس تعینات کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جسے حماس ایک نئی قسم کا قبضہ قرار دے رہی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی منصوبے کی کئی شقوں سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کی مزاحمت کرے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا