تاجروں، مذہبی جماعتوں اور سول سوسائٹی نے کل ہڑتال کی کال مسترد کردی

0
240

لاہور میں مذہبی جماعتوں، سول سوسائٹی اور تاجر برادری نے جمعے کی ہڑتال کی کال مکمل طور پر مسترد کر دی ہے۔ مختلف طبقہ فکر نے تحریکِ لبیک کی پرتشدد کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔

تاجر رہنماؤں، علمائے کرام اور دیگر شخصیات کا کہنا تھا کہ احتجاج کے لیے وقت اور جگہ کا انتخاب غلط ہے۔ ان کے مطابق مطالبات غیر ضروری اور احتجاج کا طرزِ عمل ناقابلِ قبول ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسیوں پر بلاجواز اعتراضات، سڑکیں بلاک کرنا اور جلاؤ گھیراؤ عوام دشمن اقدامات ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی سرگرمیوں سے ملک اور شہری دونوں متاثر ہوتے ہیں۔

صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ہڑتال سے تاجروں کو بھاری نقصان ہوتا ہے اور کاروباری طبقہ اس کا حصہ نہیں بنے گا۔

تاجر عمر بٹ نے بتایا کہ جمعے کو کاروبار معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو شکست کے بعد پاکستان ایک اُبھرتی ہوئی طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے۔

حافظ امیر حمزہ رافع نے کہا کہ غزہ میں بحالی کا عمل شروع ہوچکا ہے اور ایسے وقت میں ٹی ایل پی کا احتجاج بے وقت اور غیر ضروری ہے۔

مولانا عبدالمنان نے کہا کہ طاقت کے زور پر دباؤ ڈالنا نہ اسلامی طور پر درست ہے نہ اخلاقی طور پر۔ انہوں نے اس طرز احتجاج کو ملک کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

محمد رمضان پیرزادہ نے کہا کہ غزہ میں امن قائم ہوچکا ہے، فلسطینی خوشیاں منا رہے ہیں اور ٹی ایل پی کو احتجاج ختم کرنا چاہیے تاکہ عوام کی مشکلات نہ بڑھیں۔

مولانا حق نواز نے کہا کہ بھارت پاکستان میں افراتفری پھیلانے کے لیے سازشیں کر رہا ہے اور کچھ عناصر استعمال ہو رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔

ضیاء الحق قاسم خان بلوچ کا کہنا تھا کہ سڑکیں بلاک کرنا اور راستے بند کرنا غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتالوں سے مریضوں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا