چہرے نہیں نظام بدلنا چاہتے ہیں، حافظ نعیم الرحمان

0
212

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ہم افراد نہیں بلکہ پورا نظام بدلنا چاہتے ہیں۔ وہ مالاکنڈ میں ’بنو قابل پروگرام‘ سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ملک محنت کشوں اور طلبہ کا ہے مگر حکمران آپس کی لڑائیوں میں مصروف ہیں، عوام کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں 50 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور صوبائی حکومت کو اس کا جواب دینا ہوگا۔

انہوں نے نوجوانوں کو آئی ٹی اور اے آئی کی تعلیم میں آگے بڑھنے کی تلقین کی اور کہا کہ یہ ملک نوجوانوں کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب کے لیے معیاری اور یکساں تعلیم ہونی چاہیے، امیر و غریب کے لیے الگ نظام تعلیم قبول نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی نے بغیر سرکاری وسائل کے ’بنو قابل‘ پروگرام شروع کیا جس میں ساڑھے گیارہ لاکھ نوجوان رجسٹر ہوئے۔ لاکھوں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حافظ نعیم نے کہا کہ آئی ٹی تعلیم مفت ہونی چاہیے، ایک نظام اور ایک زبان ہونی چاہیے۔ نوجوانوں کو سو فیصد اسکالرشپ دی جائے گی اور ذہین طلبہ کو بیرون ملک اسکالرشپ بھی دلائی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نوجوانوں کو علم سے دور نہیں رہنے دیں گے، ہمیں نعرے نہیں عمل چاہیے۔ سودی نظام ختم کر کے معیشت کو آزاد کرنا ہوگا اور بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دینے ہوں گے۔ انہوں نے نوجوانوں کو اپنی تحریک کا حصہ بننے کی دعوت بھی دی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا