وزیراعظم سے قطری وزیر تجارت کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر اتفاق

0
338

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف سے قطر کے وزیر تجارت و صنعت شیخ فیصل بن ثانی بن فیصل الثانی نے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ، تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

قطری وزیر پاکستان اور قطر کے درمیان مشترکہ وزارتی کمیشن (جے ایم سی) کے چھٹے اجلاس کی شریک صدارت کے لیے پاکستان کے دورے پر ہیں۔

وزیراعظم نے پاکستان اور قطر کے تعلقات کو مشترکہ عقیدے، اقدار اور باہمی احترام پر مبنی قرار دیتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے قطر کو ایک اہم شراکت دار اور مؤثر علاقائی ثالث کے طور پر سراہا۔

ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے توانائی، زراعت، غذائی تحفظ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے مواقع پر زور دیا۔ انہوں نے قطری سرمایہ کاروں کو حکومت کی اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے فریم ورک کے تحت تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کی دعوت دی۔

قطری وزیر تجارت شیخ فیصل بن ثانی بن فیصل الثانی نے قطری قیادت کی جانب سے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جے ایم سی کا چھٹا اجلاس دونوں ممالک کے مابین موجودہ تعاون کے جائزے اور نئی شراکت داریوں کی راہیں متعین کرنے کے لیے ایک اہم موقع ثابت ہوا ہے۔

وزیراعظم نے قطر کی جانب سے پاکستان کے لیے علاقائی اور عالمی سطح پر مستقل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور کثیرالجہتی فورمز پر تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ کاروبار سے کاروبار کے روابط اور سرمایہ کاری منصوبوں کے لیے سہولتوں میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ دوطرفہ تعلقات کو عملی شکل دی جا سکے۔

مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں انفراسٹرکچر، توانائی، صحت، تعلیم اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔

اعلامیے کے مطابق دونوں ملکوں نے ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور سبز ٹیکنالوجیز جیسے برقی، خود مختار اور ہائیڈروجن فیول گاڑیوں کو فروغ دینے میں دلچسپی ظاہر کی۔

پاکستان نے خاریان-راولپنڈی موٹروے (ایم۔13) اور کراچی-حیدرآباد موٹروے منصوبوں میں قطری سرمایہ کاری کے مواقع کو نمایاں کیا، جو سرکاری و نجی شراکت داری یا براہِ راست مالی معاونت کے ذریعے ممکن ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا