پہلے دن اندازہ ہوگیا مذاکرات کا اختیار کابل حکومت کے پاس نہیں ، خواجہ آصف

0
309

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مذاکرات کے پہلے دن ہی واضح ہو گیا تھا کہ مذاکراتی اختیار کابل حکومت کے پاس نہیں ہے اور فریقین کے فیصلے کابل سے کنٹرول ہوتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ شروع کر رکھی ہے۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ جب بھی افغان وفد معاہدے کے قریب پہنچتا تو کابل سے رابطہ کرتے ہی مذاکرات میں تعطل آ جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی بار معاہدے طے پائے مگر کابل کالز کے بعد وفد واپس آ کر لاچاری ظاہر کرتا۔

وزیر دفاع نے افغان مذاکراتی وفد کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ وفد نے کافی محنت کی، تاہم کابل میں بیٹھ کر جو تار کھینچے جا رہے تھے وہ دراصل دهلی سے کنٹرول ہو رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان پورے افغانستان پر قابض نہیں اور ایک گروپ کی زبانی دی گئی یقین دہانیوں پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ جب سے افغان طالبان حکومت میں آئے ہیں پاکستانی نوجوان شہید ہو رہے ہیں، اور اگر اسلام آباد کی طرف کوئی خطرناک حرکت ہوئی تو “ہم آنکھیں نکال دیں گے”۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو اس بات پر شک نہیں ہونا چاہیے کہ بھارت کابل کے ذریعے پاکستان کے خلاف تلافی کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں طالبان کی حمایت کرنے والوں کے خلاف مقدمات چلانے چاہئیں چاہے وہ دنیا میں کہیں بھی ہوں۔ خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کا احترام رکھتے ہیں اور مذاکرات کے دوران صوبائی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونے دیا گیا۔

غزہ میں فوجی تعیناتی کے امکان کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ اگر پاکستان فلسطینیوں کی حفاظت کے لیے کسی قابل عمل کردار ادا کر سکے تو یہ خوش آئند ہوگا، مگر اس سلسلے میں پارلیمنٹ اور متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا