افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کی موجودگی تسلیم کر لی،پاکستان

0
319

پاکستان نے کہا ہے کہ حالیہ مذاکرات میں افغان طالبان حکومت نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سمیت دیگر دہشتگرد تنظیموں کی اپنے ملک میں موجودگی تسلیم کر لی ہے، جب کہ افغان حکام نے ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے مختلف جواز بھی پیش کیے۔

ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے حساس نوعیت کے مذاکرات کے ہر پہلو پر فوری تبصرہ ممکن نہیں، وزارتِ خارجہ کو احتیاط برتنے کا حق حاصل ہے۔ ترجمان کے مطابق استنبول مذاکرات میں متعلقہ تمام اداروں کے نمائندے موجود تھے اور اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات نہایت پیچیدہ ہیں اور صبر و تحمل کی ضرورت ہے۔ 6 نومبر کو ہونے والے اگلے دور میں پیش رفت سے متعلق جامع معلومات سامنے آئیں گی۔ میزبان ملک کا ابتدائی بیان مذاکرات کی تفصیلات نہیں تھا، جب کہ تحریری یقین دہانیوں کا معاملہ بھی مذاکرات کا حصہ ہے۔

ترجمان نے کہا کہ جنگ یا امن کا اعلان وزیراعظم کی صوابدید ہے اور وزارت خارجہ فیصلوں میں معاونت فراہم کرتی ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سیکرٹری خارجہ مذاکرات کے تمام مراحل میں شریک رہے، اس لیے حکومت میں اختلافات کا تاثر درست نہیں۔

دفترِ خارجہ کے مطابق افغان سرزمین پر دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو مضبوط کرتی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ سکیورٹی صورتحال کے جائزے کے بعد سرحد کی بندش کا فیصلہ کیا گیا، جو مزید اطلاع تک برقرار رہے گا۔

ترجمان نے کہا کہ جنگ بندی برقرار ہے اور افغانستان کی جانب سے دی گئی یقین دہانیوں کا نوٹس لیا گیا ہے۔ امید ہے کہ معاہدے پر مکمل عمل ہوگا۔

خیال رہے کہ پاکستان اور افغان طالبان نے حال ہی میں جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ 6 نومبر کو استنبول میں اعلیٰ سطح ملاقات میں جنگ بندی کے نفاذ کے طریقہ کار کا فیصلہ کیا جائے گا۔ مذاکرات 25 سے 30 اکتوبر تک ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں جاری رہے، اور فریقین نے نگرانی اور تصدیقی نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا