وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کے اجرا میں حائل آخری رکاوٹ دور کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کو یقین دلایا ہے کہ “گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگنوسس رپورٹ” 15 نومبر سے پہلے جاری کر دی جائے گی۔ تمام دیگر شرائط پہلے ہی پوری کی جا چکی ہیں، جبکہ آئی ایم ایف نے اس رپورٹ کے فوری اجرا پر زور دیا ہے۔ رپورٹ میں سرکاری اداروں کی انتظامی کمزوریاں، کرپشن کے خدشات اور قانون کی عمل داری سے متعلق مسائل شامل ہوں گے، ساتھ ہی اصلاحات اور ان پر عمل درآمد کا فریم ورک بھی فراہم کیا جائے گا۔
دسمبر میں متوقع ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں 1.2 ارب ڈالر کی منظوری دی جائے گی جس میں ایک ارب ڈالر پروگرام کے تحت اور 20 کروڑ ڈالر کلائمیٹ فنانسنگ کی مد میں شامل ہوں گے۔ رپورٹ کا اجرا اصل میں جولائی کے لیے تھا، بعد میں اگست 2025 طے کیا گیا، تاہم مزید مہلت مانگنے کے بعد اب حتمی تاریخ طے کر دی گئی ہے۔






