غزہ میں دو سالہ جنگ کے بعد بچے تباہ شدہ اسکولوں میں واپس آنا شروع ہوگئے ہیں جس سے تعلیم کا سلسلہ بحال ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
اُنروا کے مطابق جنگ بندی کے بعد کچھ اسکول دوبارہ کھل گئے ہیں اور اب تک 25 ہزار سے زائد بچے عارضی تعلیمی مراکز میں شامل ہو چکے ہیں، جب کہ تقریباً 3 لاکھ بچے آن لائن کلاسز کے ذریعے تعلیم حاصل کریں گے۔
نصیرات کے الحصینہ اسکول میں کلاسز محدود کمروں کے باوجود دوبارہ شروع ہو چکی ہیں۔ 11 سالہ وردہ سمیت متعدد بچوں کی دو سال کی تعلیم جنگ اور نقل مکانی کے باعث ضائع ہوئی، تاہم وہ دوبارہ پڑھائی شروع ہونے پر پُرامید ہیں۔
شروعاتی دنوں میں 50 کے قریب طالبات ایک ہی کمرے میں بغیر میز و کرسیاں زمین پر بیٹھ کر پڑھ رہی تھیں۔ مشکلات کے باوجود غزہ کے بچے تعلیم کا سلسلہ پھر سے جوڑنے کے لیے بھرپور عزم دکھا رہے ہیں۔






