ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں ان کے موبائل فون کے سگنلز ٹریس کرکے میزائل حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
پاسداران کے ترجمان علی محمد نائینی کے مطابق یہ حملہ کسی اندرونی سازش یا تخریب کاری کا نتیجہ نہیں تھا۔
ترجمان نے بتایا کہ میزائل ایک مخصوص فاصلے سے داغا گیا، کھڑکی سے سیدھا کمرے میں داخل ہوا اور ہنیہ کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ فون پر گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے ان تمام رپورٹس کو غلط قرار دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کمرے میں پہلے سے ریموٹ کنٹرول بم نصب کیا گیا تھا۔
یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ برس نیویارک ٹائمز نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ ہنیہ کی ہلاکت ایک خفیہ طور پر نصب بم کے ذریعے ہوئی تھی۔






