آرمی راکٹ فورس کے قیام کا فیصلہ

0
483

وفاقی کابینہ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کے شہر باکو سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مجوزہ ترمیم پر تفصیلی بریفنگ دی جبکہ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے قانونی پہلوؤں سے آگاہ کیا۔ کابینہ نے پیپلز پارٹی کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا۔

ذرائع کے مطابق آئینی ترمیم میں کل 46 شقوں میں تبدیلی کی تجویز دی گئی ہے۔ ترمیم کے تحت آئینی کورٹ کے قیام، ججز کی ٹرانسفر کے طریقہ کار اور آرٹیکل 243 میں تبدیلی شامل ہے۔ مزید بتایا گیا کہ آرمی، ایئرفورس اور نیوی کے بعد اب ’’آرمی راکٹ فورس‘‘ کے نام سے چوتھی فورس قائم کی جائے گی۔ چیف آف آرمی اسٹاف کو نیا منصب ’’کمانڈر آف ڈیفنس فورسز‘‘ بھی دیا جائے گا اور تمام دفاعی کوآرڈینیشن انہی کے ذریعے ہوگی۔

اسٹرٹیجک پلان ڈویژن، جو پہلے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے ماتحت تھا، اب نئی فورس میں شامل کیا جائے گا، جبکہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا۔ کابینہ سے منظوری کے بعد ترمیم کو سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، جہاں سے اسے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان پر مشتمل مشترکہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا۔ کمیٹی ترامیم کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا