سوڈان کے شہر الفاشر میں 40 ہزار افراد مارے جا چکے، اقوام متحدہ

0
414

دارفور، نیویارک: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان کے شہر الفاشر میں پیرا ملٹری ریپڈ سپورٹ فورسز کے قبضے کے بعد شہریوں پر ناقابلِ تصور مظالم جاری ہیں۔

لی فانگ نے کہا کہ گزشتہ 10 دنوں میں الفاشر میں خوفناک حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں خواتین، بچے اور زخمی بھی شامل ہیں۔ متعدد خاندان لاپتہ ہو گئے ہیں، اور ہزاروں لوگ تویلہ قصبے میں خراب حالات میں پہنچے ہیں، جہاں انہیں خوراک، دوا، پناہ اور نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز اور دیگر امدادی اداروں کے مطابق شہری شدید غذائی قلت اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ییل یونیورسٹی کی رپورٹ اور سیٹلائٹ تصاویر میں اجتماعی قتل کے شواہد بھی ملے ہیں۔

الابیض میں بھی RSF کے حملے کے خدشات ہیں۔ بارا قصبے پر قبضے کے بعد تقریباً 36,000 افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے، اور الابیض کو دارفور سے خرطوم کے سپلائی روٹ کے طور پر اہمیت حاصل ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس جنگ میں اب تک 40,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اور اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

سوڈان میں جاری جنگ بندی کے منصوبے کے باوجود RSF نے متعدد علاقوں میں دھماکے کر کے انسانی ہمدردی کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ گورنر منی آرکو مناوی کا کہنا ہے کہ اگر RSF کے انخلا کی شق شامل نہیں ہوئی، تو سوڈان کی تقسیم کا خطرہ ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا