اسلام آباد: منگل کے روز وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر G-11 میں واقع جوڈیشل کمپلیکس کے باہر خودکش دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق جبکہ کئی زخمی ہو گئے۔ یہ دھماکہ ایک بار پھر ملک کے سکیورٹی نظام، انٹیلی جنس کوآرڈینیشن، اور انتظامی استعداد پر سنگین سوالات اٹھا گیا ہے۔
یہ امر قابلِ غور ہے کہ ماضی میں جب ایسے حملے خیبر پختونخوا (K-P) میں ہوتے تھے تو فوراً صوبائی حکومت کی گورننس اور سکیورٹی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
اب جبکہ دہشت گردی کا واقعہ وفاق کے قلب اسلام آباد میں پیش آیا سوال یہ ہے کہ ناکامی کس کی ہے؟
یہ وفاق کی ذمہ داری ہے، صوبے کی کوآرڈینیشن کی کمی یا پورے نظام کی کمزوری
وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے حال ہی میں بیان دیا تھا کہ
کے پی حکومت دہشت گردوں کو سہولت فراہم کرنے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی مرتکب ہے۔
اسی طرح وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا تھا کہ
صوبے کی عوام نے پی ٹی آئی کو کئی سالوں تک مینڈیٹ دیا مگر بدلے میں انہیں صرف نعرے، خواب اور بے حسی ملی
یہ بیانات اُس سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں ہر سانحے کے بعد الزام ایک دوسرے پر ڈال دیا جاتا ہے۔
تاہم آج کا یہ واقعہ اس تاثر کو توڑنے پر مجبور کرتا ہے کہ دہشت گردی کسی ایک صوبے کا مسئلہ نہیں۔
جب دھماکہ اسلام آباد کے حساس ترین علاقے میں ہو، تو ذمہ داری صرف کسی ایک جماعت یا حکومت کی نہیں
بلکہ پورے نظام کی ناکامی سمجھی جانی چاہیے۔
ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ سب سے پہلے ہم سب کا پاکستان ہے۔
جب تک وفاقی و صوبائی ادارے، سکیورٹی فورسز، اور عوام ایک صف میں متحد نہیں ہوں گے،
ہم اسی طرح کے سانحات کا سامنا کرتے رہیں گے۔
یہ لمحۂ فکریہ ہے نہ صرف انتظامیہ کے لیے بلکہ ہر اُس شہری کے لیے جو اس وطن کے امن کا خواہاں ہے۔






