پاکستان-یورپی یونین سٹریٹجک مکالمہ، افغان حکومت سے دہشت گردی ختم کرنے کا مطالبہ

0
526

اسلام آباد: پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان سٹریٹجک مکالمے کے ساتویں دور کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا، جس میں افغانستان سے کہا گیا کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی کردار ادا کرے۔

اعلامیہ وزارت خارجہ سے جاری کیا گیا، اجلاس کی صدارت پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کایا کالاس نے کی۔ اجلاس میں سیاسی، معاشی، انسانی حقوق، تجارت، مہاجرت، ترقیاتی منصوبوں اور گلوبل گیٹ وے فریم ورک کے تحت تعاون بڑھانے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ایراسمس منڈس اور ہورائزن یورپ جیسے تعلیمی پروگراموں کے ذریعے علم و تحقیق کے تبادلے کو مزید فروغ دیا جائے گا، جبکہ خوراک، توانائی کے بحران اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز پر مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔

یورپی یونین نے پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی اہمیت کا اعتراف کیا، جو دونوں کے معاشی تعلقات کا ستون ہے۔ اعلامیے میں اقوام متحدہ کے اصولوں، عالمی امن اور بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے قانون کی حکمرانی پر بھی زور دیا گیا۔

غزہ کے مسئلے پر بات چیت کرتے ہوئے دونوں فریقین نے صدر ٹرمپ کے جامع منصوبے کے پہلے مرحلے کی حمایت کی اور تمام فریقوں سے جنگ بندی، معاہدے کے بروقت مکمل مراحل اور انسانی امداد تک رسائی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

اعلامیے میں پاکستان اور یورپی یونین نے افغان عبوری حکام سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا اور افغانستان کی بگڑتی معاشی صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔ یورپی یونین نے پاکستان کی گزشتہ 40 سال سے افغان مہاجرین کی میزبانی کو سراہا اور کہا کہ کسی بھی واپسی کا عمل محفوظ اور باوقار ہونا چاہیے۔

آخر میں دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ سٹریٹجک مکالمے کا آٹھواں دور اسلام آباد میں منعقد کیا جائے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا