یروشلم ؛ اسرائیلی فوج نے 7 اکتوبر 2023 کو فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی پر 3 جرنیلوں کو برطرف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام اسرائیلی فوج کے سربراہ کی جانب سے حماس کے حملے کے بارے میں ناکامیوں کی تحقیقات کے مطالبے کے دو ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، برطرف کیے گئے جرنیلوں میں 3 ڈویژنل کمانڈر شامل ہیں، جن میں سے ایک ملٹری انٹیلی جنس کا سربراہ تھا۔ اسرائیلی فوج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ یہ تین افسران غزہ سے شروع ہونے والے حماس کے حملے کو روکنے میں فوج کی ناکامی کے ذاتی طور پر ذمہ دار ہیں۔
یہ برطرفی اس وقت سامنے آئی جب ان افسران نے پہلے ہی اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا، جن میں جنوبی کمان کے سابق سربراہ جنرل یارون فنکلمان بھی شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی گئی ہے، اور مزید 4 جرنیلوں اور متعدد سینیئر افسران کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔
7 اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل پر ایک ہزار راکٹس فائر کیے تھے اور سرحد پر قائم باڑ کو توڑ کر مقبوضہ فلسطین کے علاقوں میں قائم اسرائیلی فوجیوں اور آبادیوں پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد اسرائیلی ہلاک ہوئے، اور سیکڑوں اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کو یرغمال بنا کر غزہ لے جایا گیا۔
حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ کے شہریوں پر بدترین فضائی بمباری کا آغاز کیا اور چند دن بعد زمینی کارروائی بھی شروع کر دی تھی۔ یہ کارروائیاں اب تک جاری ہیں، جس کے نتیجے میں فلسطینیوں کی بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے۔






