اے این پی کی 28 ویں ترمیم کی مشروط حمایت، پختونخوا کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ

0
384

پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی نے 28 ویں آئینی ترمیم کی مشروط حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے دوران کیے گئے وعدوں کی پاسداری ضروری ہے۔ اے این پی نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا کی تاریخی حیثیت بحال کی جائے اور صوبے کا نام دوبارہ “پختونخوا” رکھا جائے۔

پارٹی کے مرکزی ترجمان انجینئر احسان اللہ خان نے کہا کہ آئینی ترامیم کا مقصد عوامی مفاد، صوبائی حقوق کا تحفظ، وفاقی انصاف اور جمہوری استحکام ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد یا ادارے کی بالادستی کے لیے وسیلہ۔

اے این پی نے واضح کیا کہ وہ 28 ویں آئینی ترمیم کی حمایت صرف اس صورت میں کرے گی جب صوبائی خودمختاری، این ایف سی ایوارڈ، 18 ویں آئینی ترمیم اور دیگر صوبائی حقوق کی مکمل پاسداری کی جائے۔

انجینئر احسان اللہ خان نے مزید کہا کہ ترمیم میں ہائیڈل پاور پیدا کرنے والے صوبوں کے لیے بجلی پر ریلیف، تمباکو کاشتکاروں کے حقوق اور مقامی حکومتوں کے مستقل قیام کو یقینی بنایا جائے۔ آرٹیکل 140A کے تحت ہر چار سال بعد بلدیاتی انتخابات باقاعدگی سے ہوں اور انتظامی اتھارٹی کو کسی بلدیاتی ادارے کو معطل یا تحلیل کرنے کا اختیار نہ ہو۔

پارٹی نے زور دیا کہ 28 ویں ترمیم میں پختونخوا کی تاریخی شناخت بحال کی جائے اور صوبے کے نام کے حوالے سے اپنے موقف کو دہراتے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا