سوڈان میں خانہ جنگی کے شکار علاقوں میں ایک اسپتال اور بچوں کے اسکول پر فضائی حملے میں 114 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں 66 بچے بھی شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ جس اسپتال کو نشانہ بنایا گیا وہ آخری فعال اسپتال تھا اور اس میں سیکڑوں مریض داخل تھے۔
حملے میں ایمرجنسی وارڈ مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور ملبے میں طبی عملہ، مریض اور ان کے اہل خانہ دب گئے۔ زیادہ تر زخمی جنگ سے متاثرہ افراد ہی اسپتال میں داخل تھے۔ اسپتال کے قریب موجود کنڈرگارٹن اسکول بھی اس حملے میں تباہ ہو گیا۔
ڈبلیو ایچ او نے حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اسپتالوں اور اسکولوں پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سوڈان کا صحت کا نظام پہلے ہی تباہی کے دہانے پر ہے۔ اقوام متحدہ نے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ افریقی یونین نے فریقین پر زور دیا کہ شہریوں اور طبی مراکز کو نشانہ نہ بنایا جائے۔
جنگ زدہ علاقوں میں متاثرین کی مدد کرنے والی امدادی تنظیموں نے محفوظ راستے کھولنے کی اپیل کی تاکہ زخمیوں کو منتقل کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ سوڈان میں گزشتہ دو برس سے فوج اور پیرا ملٹری فورس ریپڈ سپورٹ فورس کے درمیان خونریز جھڑپیں جاری ہیں۔
ان جھڑپوں میں دارالحکومت خرطوم اور ڈارفر سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ جنگ سوڈان کو افریقہ کے بدترین انسانی بحران میں تبدیل کر چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لڑائی اسی شدت سے جاری رہی تو وبائی امراض کے پھیلنے، بھوک اور غذائی قلت کے بڑھنے اور ہزاروں افراد کو فوری طبی امداد نہ ملنے کا خطرہ ہے۔





