سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، زیادتی کا کیس زنا بالرضا میں تبدیل، سزا 20 سال سے 5 سال کر دی گئی

0
284

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے زیادتی کے ایک مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے کیس کو زنا بالرضا میں تبدیل کر دیا اور ملزم کی 20 سال قید بامشقت کی سزا کم کر کے 5 سال کر دی، جبکہ جرمانہ 5 لاکھ روپے سے کم کر کے 10 ہزار روپے مقرر کر دیا گیا۔

چھ رکنی فیصلے میں جسٹس ملک شہزاد خان نے اکثریتی فیصلہ تحریر کیا، جبکہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے فیصلے سے اختلاف کیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزم کو مزید دو ماہ قید کاٹنا ہو گی۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمہ زیادتی کا نہیں بلکہ رضامندی سے زنا کا بنتا ہے، اور زنا بالرضا کی صورت میں مدعیہ بھی سزا کی حقدار ہو سکتی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ مدعیہ کا نہ تو چالان ہوا اور نہ ہی ٹرائل کورٹ میں اسے صفائی کا موقع دیا گیا، جبکہ اپیل کی سطح پر شنوائی کے بغیر سزا سنانا قانوناً ممکن نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ بڑے جرم کی جگہ چھوٹے جرم یعنی زنا بالرضا میں سزا دی جا سکتی ہے۔

فیصلے کے مطابق ایف آئی آر میں درج ہے کہ خاتون صبح ساڑھے پانچ بجے جنگل میں حاجت کے لیے گئی تھی، جہاں اس کے مطابق گھات لگائے بیٹھے ملزم نے پستول کے زور پر زیادتی کی۔ تاہم ایف آئی آر واقعے کے تقریباً سات ماہ بعد درج کی گئی۔

سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ استغاثہ اس بات کی وضاحت کرنے میں ناکام رہا کہ ملزم کو مدعیہ کے مخصوص وقت پر جنگل آنے کا علم کیسے تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ مدعیہ نے واقعے کے وقت مزاحمت نہیں کی، میڈیکل رپورٹ میں تشدد یا زخموں کے نشانات موجود نہیں، جبکہ متاثرہ خاتون کے کپڑے بھی بطور ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔

عدالت کے مطابق واقعہ رہائشی علاقے کے قریب پیش آیا، تاہم مدعیہ نے نہ شور مچایا اور نہ ہی کسی سے مدد طلب کی، جبکہ سات ماہ تک اس نے نہ کوئی قانونی کارروائی کی اور نہ ہی اہل خانہ کو واقعے سے آگاہ کیا۔

ڈی این اے رپورٹ کے حوالے سے عدالت نے حتمی فیصلہ دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ڈی این اے کی صداقت کا تعین کسی اور مقدمے میں کیا جائے گا۔ فیصلے میں بتایا گیا کہ ڈی این اے ٹیسٹ سیمپلز واقعے کے ڈیڑھ سال بعد لیے گئے، جبکہ میڈیکل ریسرچ کے مطابق درست نتائج دو ہفتوں کے اندر حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ مدعیہ کے بیان اور میڈیکل شواہد سے جنسی تعلق ثابت ہوتا ہے، تاہم شواہد کی بنیاد پر زبردستی ثابت نہیں کی جا سکتی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا