۔21 دسمبر کو ملک گیر احتجاج ہوگا، اگلا لائحہ عمل جلد اعلان کریں گے: حافظ نعیم الرحمان

0
415

لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ 21 دسمبر کو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا، جبکہ جماعت اسلامی آئندہ دنوں میں اپنے اگلے لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان بھی کرے گی۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پنجاب میں منظور کیا گیا نیا بلدیاتی ایکٹ جمہوریت پر ایک دھبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو طرزِ عمل سینیٹ اور اسمبلیوں میں اپنایا جا رہا ہے، اب اسے نچلی سطح تک منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ پنجاب میں آخری مرتبہ بلدیاتی انتخابات 2015 میں ہوئے تھے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت اس قدر خوفزدہ ہے کہ وہ شہر کے میئر سے بھی ڈرتی ہے کہ کہیں وہ وزیراعلیٰ کو چیلنج نہ کر دے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران صرف ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے لگاتے ہیں، حالانکہ یہ عوام اور عام کارکن کا بنیادی مسئلہ ہے۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت نے تمام محکمے اپنے کنٹرول میں لے رکھے ہیں اور اپنی گورننس کو بہترین قرار دیتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر گورننس واقعی اچھی ہے تو کسان ڈے کے موقع پر کسانوں کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟

انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کے حالات بہتر بنا سکتی تھی مگر سب کچھ تباہ کر دیا گیا۔ بھارت میں کھاد سستی ہے جبکہ پاکستان میں مہنگی، اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ انہوں نے الزام لگایا کہ عوام کو کوئی سہولت فراہم نہیں کی گئی اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر لوگوں کو قطاروں میں کھڑا کر کے ان کی تذلیل کی جاتی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت یہ بتائے کہ کون سی درآمدات کم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی چند شرائط تو مان لی جاتی ہیں، مگر جن فیصلوں سے حکمران متاثر ہوں وہ نہیں مانتے۔ ایسی پالیسیوں کے ساتھ یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کی معیشت آگے بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی معیشت حکومتی پالیسیوں کے باعث خطرے میں ہے اور تمام طبقات کو مل کر اس نظام کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے وقت سب اکٹھے ہو جاتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ خاندانی سیاست نے 25 کروڑ عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا