اسلام آباد: قومی ایئرلائن کی نجکاری کے تیسرے اور حتمی مرحلے میں 135 ارب روپے کی سب سے زیادہ بولی لگانے والے کنسورشیم کو کامیاب قرار دے دیا گیا، جبکہ لکی سیمنٹ کی جانب سے 134 ارب روپے کی بولی دی گئی۔
قومی ایئرلائن کی نجکاری کے مرحلہ وار عمل کے دوران وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات، وزیر نجکاری، کنسورشیم کے نمائندے اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ بولی کا پورا عمل شفاف انداز میں مکمل کیا گیا۔
نجکاری کے دوسرے مرحلے میں بولی کا عمل مزید تیز ہوا، جہاں لکی گروپ نے اپنی بولی بڑھا کر 115 ارب 50 کروڑ روپے کر دی، جبکہ عارف حبیب گروپ نے 116 ارب روپے کی بولی پیش کی۔ بعد ازاں عارف حبیب گروپ نے بولی بڑھا کر 116 ارب 50 کروڑ روپے کر دی۔
اس کے جواب میں لکی گروپ نے 116 ارب 75 کروڑ روپے کی بولی دی، پھر لکی سیمنٹ کی جانب سے 120 ارب 25 کروڑ روپے کی پیشکش سامنے آئی۔ وقفے سے قبل عارف حبیب گروپ نے بولی بڑھا کر 121 ارب روپے کر دی، جس کے بعد مقابلہ مزید سخت ہو گیا۔
نجکاری کے پہلے مرحلے میں قومی ایئرلائن کی خریداری کے لیے تین پری کوالیفائیڈ بڈرز نے بولیاں جمع کرائی تھیں۔ بولیاں مقررہ وقت پر کھولی گئیں، جبکہ پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ کے اجلاس میں ریفرنس قیمت طے کی گئی۔
ریفرنس قیمت کے تعین کے بعد اسے کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔ حکام کے مطابق اس پورے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا۔
قبل ازیں مشیر نجکاری محمد علی نے بتایا تھا کہ قومی ایئرلائن کی فروخت کے لیے بڈنگ کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور اب معاملہ پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ کے پاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریزرو پرائس کو خفیہ رکھا گیا ہے اور اس کی حتمی منظوری کابینہ کمیٹی دے گی، جبکہ یہ گزشتہ 20 برسوں میں ملک کی سب سے بڑی نجکاریوں میں سے ایک ہے۔





