سعودی عرب ، یو اے ای میں اختلافات شدت اختیار کر گئے

0
444

ریاض: سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمنی حکومت کے مطالبے کے مطابق 24 گھنٹوں کے اندر اپنی فوج یمن سے واپس بلائے اور کسی بھی فریق کو عسکری یا مالی معاونت فوری طور پر بند کرے۔

سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن میں امن کے لیے مذاکرات ہی واحد حل ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یو اے ای کا یمنی جنوبی عبوری کونسل پر دباؤ ڈال کر کارروائیوں پر آمادہ کرنا افسوسناک ہے اور یہ اقدام سعودی عرب کی قومی سلامتی، جمہوریہ یمن کے امن اور پورے خطے کے لیے خطرہ ہے۔

سعودی عرب نے کہا کہ یہ اقدامات یمنی حکومت کی حمایت کے لیے قائم عرب اتحاد کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ قومی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کو ریڈ لائن سمجھا جائے گا اور ایسے خطرات کے سدباب کے لیے ضروری ہر اقدام سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

سعودی عرب نے یمن کی صدارتی قیادت کونسل اور یمنی حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یمن کے امن، استحکام اور خودمختاری کی حمایت جاری رکھے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ یمن کے جنوبی مسئلے کے تاریخی اور سماجی پہلو موجود ہیں اور اس کا حل جامع سیاسی عمل کے تحت مذاکرات کی میز پر ہی ممکن ہے، جن میں جنوبی عبوری کونسل سمیت تمام یمنی فریقوں کی شمولیت ضروری ہے۔

سعودی عرب نے اس بات پر زور دیا کہ دانشمندی، اخوت اور حسنِ ہمسائیگی کو ترجیح دی جائے گی اور خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کو فروغ دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ یمن کی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے حال ہی میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا