ڈھاکہ میں بھارتی وزیر خارجہ اور پاکستانی اسپیکر کی مختصر ملاقات

0
924

ڈھاکہ: بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی آخری رسومات کے موقع پر بدھ کے روز ڈھاکہ میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق سے مختصر ملاقات کی۔ یہ مئی میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی تنازعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے سینئر حکام کے درمیان پہلی براہ راست بات چیت ہے۔

یہ ملاقات خالدہ ضیا کی رہائش گاہ پر ہوئی، جہاں ان کی سرکاری جنازہ تقریبات منعقد کی جا رہی تھیں۔ خالدہ ضیا منگل کو 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ وہ بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم اور ملک کی بااثر سیاسی شخصیات میں شمار کی جاتی تھیں۔ ان کے انتقال پر قومی سطح پر سرکاری اعزاز کے ساتھ جنازہ ادا کیا گیا، جھنڈے سرنگوں رہے اور دارالحکومت میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے۔

جنازے میں شرکت کے لیے پاکستان اور بھارت سمیت متعدد ممالک کے عالمی رہنما اور اعلیٰ حکام ڈھاکہ پہنچے۔ موقع پر موجود اہلکاروں کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے سردار ایاز صادق کی نشست کے پاس جا کر مصافحہ کیا، جس کا پاکستانی اسپیکر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی، تاہم کسی باضابطہ بات چیت کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

یہ مختصر ملاقات مئی 2025 میں دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان چار روزہ فوجی تنازعے کے بعد اعلیٰ سطح پر پہلی براہ راست مصروفیت تھی۔

واضح رہے کہ اپریل 2025 میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے۔ بھارت نے حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جسے اسلام آباد نے مسترد کر دیا۔ بعد ازاں بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کیا اور پاکستانی سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیا۔

7 مئی کو بھارت نے آپریشن سندور کے تحت پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں مختلف مقامات پر میزائل حملے کیے، جن میں شہری ہلاکتیں ہوئیں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ بھارت کا دعویٰ تھا کہ حملوں کا ہدف عسکریت پسندوں کے ٹھکانے تھے۔

چار روزہ لڑائی کے دوران دونوں ممالک نے لڑاکا طیاروں، میزائلوں، توپ خانے اور ڈرونز کا استعمال کیا۔ امریکہ کی ثالثی سے 10 مئی کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، تاہم اس سے قبل درجنوں افراد جان سے جا چکے تھے۔

جنگ بندی کے بعد پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس نے فرانسیسی ساختہ رافیل سمیت سات بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے، جبکہ بھارت نے کچھ نقصانات تسلیم کیے لیکن طیاروں کی تعداد کے بارے میں پاکستان کے دعوے کو مسترد کر دیا۔

جنگ بندی کے باوجود پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تک کوئی باضابطہ مذاکرات شروع نہیں ہو سکے۔ ڈھاکہ میں ہونے والی یہ مختصر اور غیر رسمی ملاقات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات بدستور منجمد ہیں، اگرچہ بین الاقوامی اور علاقائی تقریبات میں دونوں فریق ایک ہی جگہ موجود ہوتے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا