امریکی انسپیکٹر جنرل نے افغانستان میں 2001 سے 2021 تک جاری جنگ اور تعمیرِ نو سے متعلق حتمی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا نے افغان جنگ پر مجموعی طور پر 763 ارب ڈالر خرچ کیے، تاہم ان اخراجات کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کی مبینہ کوششوں کے باوجود افغان حکومت کو دوحہ مذاکرات کے عمل سے عملاً نظرانداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں ریاستی ڈھانچہ کمزور ہوا اور حکومتی ادارے عدم استحکام کا شکار رہے۔
امریکی سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2002 سے 2021 کے دوران افغانستان میں تعمیرِ نو کے لیے 144.7 ارب ڈالر مختص کیے گئے، جن میں سے 137.3 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ یہ اخراجات یورپ کے مارشل پلان سے بھی زیادہ تھے، تاہم افغان حکومتوں میں بدعنوانی تعمیر نو کی سب سے بڑی رکاوٹ بنی رہی۔
رپورٹ کے مطابق جنگی کارروائیوں پر 763 ارب ڈالر جبکہ افغان سیکیورٹی فورسز کے لیے 90 ارب ڈالر مختص کیے گئے، مگر اس کے باوجود غیر ملکی افواج پر انحصار ختم نہ ہو سکا۔ امریکی انخلا کے بعد افغان فورسز تیزی سے بکھر گئیں۔
انسپیکٹر جنرل کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ افغان سیکیورٹی اداروں میں ہزاروں گھوسٹ ملازمین موجود تھے اور ایندھن سمیت دیگر وسائل کی بڑے پیمانے پر چوری ہوتی رہی۔ افغان فورسز کو گاڑیاں، ہزاروں عسکری آلات، ہتھیار اور 162 طیارے فراہم کیے گئے، تاہم امریکی انخلا کے بعد یہ تمام سازوسامان افغانستان میں ہی چھوڑ دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے افغانستان کے لیے 12.16 ارب ڈالر کے وعدے کیے۔ انسدادِ منشیات پروگرام پر 7.3 ارب ڈالر خرچ کیے گئے، مگر یہ پروگرام غیر مؤثر ثابت ہوئے، جبکہ اسٹیبلائزیشن پروگرامز پر 4.7 ارب ڈالر خرچ ہونے کے باوجود نتائج مایوس کن رہے۔
افغان جنگ کے دوران 2 ہزار 450 سے زائد امریکی فوجی ہلاک جبکہ 20 ہزار 700 زخمی ہوئے۔ امریکی انخلا کے بعد افغان مہاجرین کی امریکا منتقلی کے لیے 14.2 ارب ڈالر مختص کیے گئے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سقوطِ کابل کے بعد امریکا نے چار برسوں میں طالبان حکومت کو 3.83 ارب ڈالر کی امداد فراہم کی، جس میں صرف مارچ 2025 کی ایک سہ ماہی کے دوران 120 ملین ڈالر شامل تھے۔
اس کے علاوہ عالمی عطیہ دہندگان نے امریکی انخلا کے بعد اقوام متحدہ کے تحت چلنے والے منصوبوں کے لیے 8.1 ارب ڈالر فراہم کیے۔ افغان ری کنسٹرکشن ٹرسٹ فنڈ کے تحت 1.5 ارب ڈالر کے چھ منصوبے تاحال فعال ہیں، جبکہ طالبان حکومت ان امدادی سرگرمیوں پر ٹیکس اور لیویز وصول کرتی رہی۔





