اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون ٹو میں گیس لیکج کے باعث ہونے والے خوفناک دھماکے میں دولہا، دلہن اور دولہا کی والدہ سمیت 8 افراد جاں بحق جبکہ 12 افراد زخمی ہو گئے۔ دھماکے کے نتیجے میں 4 گھر متاثر ہوئے جن میں سے 3 مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کے مطابق دھماکے کے بعد گھروں سے مجموعی طور پر 20 افراد کو باہر نکالا گیا، جن میں سے 8 افراد جانبر نہ ہو سکے۔ زخمیوں کو فوری طور پر پمز ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
ایڈیشنل ڈی سی نے بتایا کہ تمام افراد کو ملبے سے نکال لیا گیا ہے، تاہم جدید آلات کی مدد سے دوبارہ سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔ دھماکے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ بلڈنگ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعہ کے بعد علاقے کے تمام راستے بند کر دیے ہیں۔
صاحبزادہ یوسف کے مطابق دھماکہ شادی والے گھر میں ہوا جہاں دولہا اور مہمان موجود تھے۔ جاں بحق ہونے والوں میں دولہا، دلہن اور دولہا کی والدہ شامل ہیں۔
ترجمان پمز ہسپتال ڈاکٹر انیزہ جلیل نے بتایا کہ 11 زخمیوں کو پمز منتقل کیا گیا جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کا علاج آرتھوپیڈک، برن اور نیورو ڈیپارٹمنٹس میں جاری ہے۔ بیشتر زخمیوں کو چھت گرنے کے باعث شدید چوٹیں آئیں جبکہ ایک زخمی کو سٹی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
چیئرمین سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر حادثہ گیس لیکج کے باعث پیش آیا، سردیوں میں اس طرح کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ رات کے وقت گیس کے استعمال سے گریز کریں۔
چیف کمشنر نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا اور ریسکیو ٹیم واقعہ کے 5 منٹ کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھی۔
ابتدائی رپورٹ
کیپیٹل ایمرجنسی سروس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق سی ڈی اے کے ملازم شیری کے گھر ولیمے کا دن خوشیوں کے بجائے المیے میں بدل گیا۔ گزشتہ روز دولہا بارات لے کر گجرات گیا تھا اور رات ڈیڑھ بجے واپس پہنچا۔
سردی کے باعث گھر میں ہیٹر جلتا رہا، گیس لوڈشیڈنگ کے دوران ہیٹر بند ہو گیا۔ گیس بحال ہونے پر تنگ اور بند جگہ کے باعث گیس گھر میں بھر گئی۔ صبح سویرے ناشتے کے لیے دیا سلائی جلانے پر زور دار دھماکہ ہو گیا۔
ردعمل
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ انہوں نے وزیر صحت، سیکرٹری صحت اور پمز انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی، جبکہ سیکرٹری داخلہ کو مکمل تحقیقات کا حکم دیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور زخمیوں کو بہترین علاج فراہم کیا جائے گا۔






