سپریم کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے خلاف مختلف نوعیت کے 13 مقدمات سماعت کے لیے مقرر کر دیے ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ 9 فروری کو ان مقدمات کی سماعت کرے گا۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے تمام متعلقہ فریقین اور وکلا کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔
عدالت عظمیٰ میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل، بشریٰ بی بی کی ضمانت کے خلاف اپیل، الیکشن کمیشن کی فوجداری شکایت کے خلاف بانی کی اپیل، آفیشل سیکریٹریٹ اور نیب کے مقدمات سمیت القادر ٹرسٹ کیس میں نیب کی اپیل سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی بریت کے خلاف اپیل، 9 مئی لاہور کے مقدمات میں ضمانت کے خلاف حکومتی اپیل، اور ہتکِ عزت کیس میں شہباز شریف کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی اپیلوں پر بھی سماعت ہوگی۔
توشہ خانہ کیس سے متعلق فوجداری درخواستیں بھی سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں کارروائی مکمل ہونے کے بعد کیس دوبارہ سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے فکس کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے توشہ خانہ فوجداری کیس میں بانی پی ٹی آئی کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی، جسے بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دیا تھا۔ الیکشن ایکٹ کی دفعات 167 اور 173 کے تحت دی گئی سزا کے خلاف اپیل پر 9 فروری کو سماعت ہوگی۔





