اسرائیل بورڈ آف پیس میں ہو یا نہ ہو، پاکستان کا مؤقف واضح ہے: ترجمان دفتر خارجہ

0
377

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف امریکی صدر کی دعوت پر تین روزہ سرکاری دورے پر امریکا میں موجود ہیں، جہاں وہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں شرکت کریں گے اور اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ وزیراعظم اجلاس میں شریک دیگر سربراہانِ مملکت سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ ان کے وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت دیگر وزراء شامل ہیں۔ یہ دورہ پاک امریکا دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کا اہم موقع فراہم کرے گا۔

ترجمان نے واضح کیا کہ بورڈ آف پیس میں اسرائیل کی موجودگی یا عدم موجودگی سے پاکستان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سابق اسرائیلی وزیراعظم کے بیان کو افواہوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اس قسم کے بیانات پر ردعمل نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس سے متعلق پاکستان اپنی ریڈ لائن واضح کر چکا ہے، جب تک اس کا مینڈیٹ سامنے نہیں آتا، کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان امن کے لیے فوج فراہم کر سکتا ہے، لیکن حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے نہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان نے افغان ناظم الامور کو طلب کر کے باجوڑ حملے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ افغان نائب سفیر کو باضابطہ احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا، جس میں افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

واضح رہے کہ 16 فروری کو باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز پر دہشت گرد حملہ ہوا تھا، جس میں 11 اہلکار شہید ہوئے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ حملہ سرحد پار سے آنے والے دہشت گردوں نے کیا، جن کا تعلق ٹی ٹی پی سے ہے اور جن کی قیادت افغانستان میں موجود ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اس قسم کے واقعات دوطرفہ تعلقات اور خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہیں۔ طالبان کی متعدد یقین دہانیوں کے باوجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی نظر نہیں آ رہی۔

پاکستان نے ایک بار پھر افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا