لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے غیر قانونی موبائل سمز کی فروخت اور استعمال کی روک تھام کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو مؤثر قواعد و ضوابط بنانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے یہ حکم غیر قانونی سمز فروخت کرنے کے مقدمے میں ملزم محمد عثمان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیا۔
عدالتی حکم پر ڈی جی پی ٹی اے، ڈائریکٹر لیگل پی ٹی اے سمیت دیگر افسران عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ درخواست گزار کی جانب سے وکیل خادم حسین پیش ہوئے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے حقائق کے برعکس مقدمہ درج کیا۔ ملزم گرفتاری کے بعد سے جیل میں ہے اور ضمانت اس کا قانونی حق ہے، لہٰذا بعد از گرفتاری ضمانت منظور کی جائے۔
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملک کو دہشت گردی کا سامنا رہا ہے اور قوم نے اس کے خلاف بڑی قربانیاں دی ہیں۔ غیر قانونی سمز کے ممکنہ غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ یہ سمز دہشت گردی میں استعمال ہوں۔
عدالت میں غیر قانونی سمز کی روک تھام سے متعلق مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ بعد ازاں عدالت نے پی ٹی اے کو ہدایت کی کہ وہ غیر قانونی سمز کے سدباب کے لیے مؤثر اقدامات اور واضح رولز تشکیل دے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔ ملزم کے خلاف این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔





