پشاور میں پشاور پریس کلب کے نو منتخب عہدیداران کی حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین و قانون بھی اڈیالہ جیل میں قید ہو کر رہ گیا ہے۔
انہوں نے نو منتخب ممبران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پریس کلب نے کبھی اپنے انتخابات ملتوی نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق خیبرپختونخوا کا مقروض ہے، پریس کلب کی گرانٹ 10 کروڑ سے بڑھا کر 15 کروڑ اور صحافیوں کے انڈومنٹ فنڈ کو 20 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا گزشتہ 22 برس سے دہشتگردی سے متاثر رہا لیکن صحافیوں نے مشکل حالات میں بھی اپنے فرائض انجام دیے۔ ان کے مطابق صحافت اور جمہوریت کے تمام اداروں کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانچ روز پرامن احتجاج کیا گیا مگر اب تک انہیں ذاتی معالج تک رسائی نہیں دی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ قیدی کو علاج کی سہولت دینا بنیادی حق ہے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ کچھ رہنماؤں نے آئین و قانون کو نظرانداز کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے اربوں روپے مالیت کا طیارہ خریدنے پر میڈیا خاموش ہے اور یہ عوامی وسائل کا معاملہ ہے۔





