سندھ کو توڑنے کی بات ناقابل قبول، کراچی کی علیحدگی کے بیانات کی مذمت کرتا ہوں: مراد علی شاہ

0
298

کراچی میں سندھ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ کو تقسیم کرنے اور کراچی کو الگ کرنے سے متعلق بیانات کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام میں سندھ کا بنیادی کردار تھا اور اسی شہر میں سندھ اسمبلی موجود تھی۔ ان کے مطابق پاکستان کے دشمن ملک کی وحدت کو نقصان پہنچانے کی مہم چلا رہے ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ اس نوعیت کی باتیں کی گئی ہوں، 1994 میں بھی سندھ اسمبلی اسی نوعیت کی قرارداد منظور کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1948 میں کراچی کو دارالحکومت بنانے کے وقت آئین موجود نہیں تھا، اگر آئین ہوتا تو فیصلہ مختلف ہو سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا کوئی بھی فیصلہ اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے ہی ممکن ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ قرارداد میں سندھ کی وحدت کی بات کی گئی ہے اور کسی جماعت یا شخصیت پر تنقید نہیں کی گئی۔ انہوں نے ارکانِ اسمبلی سے اپیل کی کہ اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ سامنے لائے، بصورت دیگر قرارداد کی حمایت کی جائے۔

انہوں نے تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر پر انگریزوں کے قبضے کے بعد سندھ کو ممبئی پریزیڈنسی کا حصہ بنایا گیا، تاہم سندھ کے عوام نے جدوجہد کے بعد علیحدگی حاصل کی۔

مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ آصف علی زرداری کی جانب سے ’’پاکستان کھپے‘‘ کا نعرہ دیا گیا تھا اور پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی وحدت کے خلاف کبھی نہیں جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو توڑنے کی کوئی بھی سوچ کامیاب نہیں ہوگی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا