بلاول بھٹو سندھ حکومت کے جہاز پرگھوم سکتے ہیں تو یہ حکومت پنجاب کا جہاز ہے، مریم کی مرضی: عظمیٰ بخاری

0
384

لاہور: پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران صوبائی حکومت کی جانب سے طیارہ خریدنے کے معاملے پر ایوان میں شدید بحث دیکھنے میں آئی۔ وقفۂ سوالات کے دوران محکمۂ اطلاعات سے متعلق امور زیر بحث تھے کہ ماحول اس وقت کشیدہ ہوگیا جب پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ عابد نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیرِاعلیٰ 11 ارب روپے کے طیارے پر راجن پور کا دورہ کریں گی؟

اس پر وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر بلاول بھٹو سندھ حکومت کے طیارے پر سفر کرسکتے ہیں تو یہ بھی حکومتِ پنجاب کا طیارہ ہے اور اسے استعمال کرنا حکومت کا اختیار ہے۔

اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے استفسار کیا کہ طیارہ کس مد میں خریدا گیا اور اس کی ضرورت کیا تھی۔ اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے احتجاجاً کاغذی جہاز بنا کر ایوان میں لہرائے۔

اسپیکر نے کہا کہ اگر انہیں جواب دینا ہوتا تو وہ طیارے کی خریداری کو درست قرار دیتے، تاہم اس معاملے پر جواب دینا ان کی ذمہ داری نہیں۔

بعد ازاں اپوزیشن نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور قید سے متعلق بھی بات کی، جس پر رانا ارشد نے کہا کہ تنقید کرنے والوں کو اپنے دورِ حکومت پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔

حکومتی رکن احسن رضا کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے خلاف غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کیے گئے جس پر ایوان میں شور شرابا ہوا۔ اسپیکر نے مداخلت کرتے ہوئے غیر پارلیمانی الفاظ حذف کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ کسی بھی قائد کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرنا قابلِ قبول نہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا