اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے۔
وزیر اعظم نے ایران پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین اور دیگر خلیجی ممالک پر ہونے والے حملوں کی بھی بھرپور مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک پر حملوں سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں اور پاکستان اس مشکل گھڑی میں ان ممالک کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق پاکستان ان ممالک کی سلامتی کو اپنی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 60 ڈالر سے بڑھ کر 100 ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار خلیجی ممالک سے آنے والے تیل اور گیس پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت کو مشکل فیصلے کرنا پڑے ہیں کیونکہ عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیار میں نہیں ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت توانائی بحران کو کم کرنے اور معیشت کو مستحکم رکھنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے۔ ان کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافہ ایک مشکل فیصلہ تھا۔
شہباز شریف نے کہا کہ دماغ کہتا تھا کہ تیل کی قیمت میں اضافے کے سوا کوئی آپشن نہیں، لیکن دل کہتا تھا کہ کہیں اس فیصلے سے غریب عوام پر بوجھ نہ بڑھ جائے۔
وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ آئندہ دو ماہ کیلئے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کو ملنے والے ایندھن میں 50 فیصد کمی کی جا رہی ہے، تاہم ایمبولینس سروس کو اس فیصلے سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ دو ماہ کیلئے تمام سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیاں گراؤنڈ کی جا رہی ہیں۔
وزیر اعظم کے مطابق کابینہ کے تمام وزرا، مشیر اور معاونین خصوصی رضاکارانہ طور پر دو ماہ کی تنخواہ اور الاؤنسز نہیں لیں گے جبکہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں بھی 25 فیصد کٹوتی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تمام سرکاری محکموں کے تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جا رہی ہے جبکہ دفاتر میں نئی اشیا کی خریداری پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔





