کراچی کے اسپتالوں کا طبی فضلہ خطرناک مسئلہ بن گیا،

0
508

کراچی: شہر کے سرکاری اسپتالوں سے نکلنے والا طبی فضلہ ایک سنگین ماحولیاتی اور صحت عامہ کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے کا تقریباً 10 فیصد حصہ انتہائی خطرناک ہوتا ہے جو مختلف انفیکشن پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایک مریض کے بستر سے روزانہ ڈھائی سے تین کلو تک طبی فضلہ نکلتا ہے جس میں تقریباً ایک کلو انفیکشن پھیلانے والا مواد شامل ہوتا ہے۔ اس خطرناک فضلے میں مریض کا بلغم، استعمال شدہ سرنجیں، ڈراپس سیٹ، کینولا، بلڈ بیگز اور یورین کا فضلہ شامل ہوتا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان کے کسی بھی سرکاری اسپتال میں مریضوں کے بستروں سے نکلنے والے طبی فضلے کے درست اعداد و شمار موجود نہیں جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ یومیہ کتنا طبی فضلہ پیدا ہو رہا ہے اور اس کا کتنا حصہ انفیکشن پھیلانے کا باعث بن رہا ہے۔

کراچی کے چھ ضلعی اسپتالوں میں طبی فضلے کو سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے کیلئے کوئی انسی نیریٹر یا جدید مشینری موجود نہیں۔ اسی طرح اندرون سندھ کے بیشتر سرکاری اسپتالوں میں بھی طبی فضلہ تلف کرنے کیلئے مناسب سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔

سن 2012 میں پہلی بار طبی فضلہ تلف کرنے کیلئے ڈیپ ہیٹ اسٹرلائزیشن پلانٹس نصب کیے گئے تھے جو صرف پانچ ٹیچنگ اسپتالوں کو فراہم کیے گئے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان میں سے بیشتر پلانٹس غیر فعال ہو چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سول اسپتال کراچی میں یہ پلانٹ فعال ہے جبکہ جناح اسپتال میں یہ مشین اس وقت خراب پڑی ہے۔ دیگر ٹیچنگ اسپتالوں میں بھی عدم توجہی کے باعث یہ نظام غیر فعال ہو چکا ہے۔

محکمہ صحت اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ماتحت اسپتالوں میں اس بات کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں کہ اسپتالوں سے نکلنے والا طبی فضلہ آخر کہاں منتقل کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق بعض اسپتالوں میں خاکروبوں کے ذریعے ایک منظم گروہ طبی فضلہ اٹھوا کر ری سائیکلنگ کے عمل میں بھی شامل کرتا ہے، جو صحت عامہ کیلئے انتہائی خطرناک عمل تصور کیا جاتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے کا تقریباً 10 فیصد حصہ انتہائی خطرناک ہوتا ہے جبکہ باقی 90 فیصد عام فضلہ تصور کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر اس خطرناک فضلے کو سائنسی بنیادوں پر تلف نہ کیا جائے تو یہ پورے فضلے کو آلودہ اور خطرناک بنا سکتا ہے۔

حکومت سندھ نے 2005 میں سرکاری اور نجی اسپتالوں، لیبارٹریوں اور ڈسپنسریوں سے نکلنے والے طبی فضلے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کیلئے ہاسپٹل ویسٹ مینجمنٹ رولز متعارف کرائے تھے۔

ان قوانین کے تحت اسپتالوں کو طبی فضلہ سائنسی طریقوں سے تلف کرنے اور مخصوص مقامات پر ڈمپ کرنے کا پابند بنایا گیا تھا۔ تاہم زمینی حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔

ماہرین کے مطابق طبی فضلے کو غیر سائنسی طریقوں سے ٹھکانے لگانے کے باعث معاشرے میں ایڈز، ہیپاٹائٹس اور ٹائیفائیڈ جیسی بیماریاں پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

پاکستان انفیکشن سوسائٹی کے سربراہ پروفیسر رفیق خانانی کا کہنا ہے کہ طبی فضلہ کھلے عام یا آبادی کے قریب جلانے سے خطرناک جراثیم اور وائرس پھیل سکتے ہیں۔

دوسری جانب ماہر صحت ڈاکٹر پیر غلام نبی جیلانی شاہ کے مطابق انفلوئنزا، ٹی بی، ہیپاٹائٹس بی اور سی اور ایچ آئی وی جیسے وائرس طبی فضلے کے ذریعے ایک سے دوسرے افراد میں منتقل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں عام کچرے اور طبی فضلے کو غیر سائنسی بنیادوں پر پھینکنے کے باعث مختلف بیماریوں میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے اسپتالوں میں آگاہی، جدید مشینری اور مؤثر نگرانی کے نظام کی فوری ضرورت ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا