لاہور: لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا، تشدد اور جنسی زیادتی کے مقدمے میں متاثرہ خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن کے مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کرائے گئے مبینہ بیان کے بعض مندرجات سامنے آئے ہیں، جن میں خاتون نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
بیان کے مطابق، 40 سالہ اسٹرڈ گیبریلا روبنسن، جو اسپین کے شہر ہنڈاس دی لاس کی رہائشی ہیں، نے کہا کہ ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات دوسری متاثرہ خاتون اسٹیفنی کے بیان سے ملتے جلتے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ قیام کے دوران پہلی رات مسلح افراد گھر میں داخل ہوئے، انہیں باندھ دیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا۔ خاتون کے مطابق ایک شخص نے ان پر جسمانی تشدد کیا جبکہ بعد ازاں ملزم رضا ڈار نے ان سے کمپیوٹر، رقم اور پاس ورڈز کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔
بیان میں مزید الزام لگایا گیا کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں، ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں منتقل کیا گیا اور ان کی رضامندی کے بغیر ان کے ساتھ متعدد بار جنسی زیادتی کی گئی۔ خاتون کا کہنا تھا کہ بعد ازاں انہیں دوبارہ دیگر افراد کے پاس لے جایا گیا۔
دوسری جانب سینیٹر فیصل واوڈا نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ اس مقدمے کا مرکزی ملزم نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا قریبی رشتہ دار (مبینہ نواسا) ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت اس مقدمے کو دبانے، اسے جنسی زیادتی کے بجائے بھتہ خوری تک محدود رکھنے اور متاثرہ خواتین کو جلد ملک سے واپس بھیجنے کی کوشش کر رہی ہے۔
فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ متاثرہ خواتین کے دفعہ 164 کے بیانات اور میڈیکل رپورٹس کو شفاف انداز میں منظرعام پر لایا جانا چاہیے اور اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے اسحاق ڈار سے استعفے کا بھی مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ پولیس نے اس مقدمے میں چار افراد کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق مرکزی ملزم رضا ڈار اور دونوں غیر ملکی خواتین سنگاپور میں کاروباری شراکت دار تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خواتین کو مزید سرمایہ کاری کے بہانے پاکستان بلایا گیا، جہاں ان کے ساتھ مبینہ طور پر اغوا، تشدد اور جنسی زیادتی کی گئی۔
اہم وضاحت: اس مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں اور عدالت کی جانب سے ابھی تک الزامات ثابت نہیں ہوئے۔ تمام ملزمان قانون کے مطابق اس وقت تک بے گناہ تصور کیے جائیں گے جب تک عدالت انہیں جرم کا مرتکب قرار نہ دے دے۔






